
ترجمان سپاہ پاسداران انقلاب اسلامی کا کہنا ہے کہ ایران کے پاس غیر استعمال شدہ صلاحیتیں اور اسٹریٹجک اہداف موجود ہیں
ترجمان سپاہ پاسداران انقلاب اسلامی بریگیڈیئر جنرل حسین محبی نے کہا کہ امریکی جہاز آبنائے ہرمز سے 400 کلومیٹر دور چلے گئے ہیں، جسے انہوں نے ایران کی بڑی کامیابی قرار دیا۔ انہوں نے خبردار کیا کہ ایران پر کسی بھی امریکی حملے کا بھرپور جواب دیا جائے گا۔
شائع شدہ: 25 ستمبر، 2026
محفوظ کریںترجمان سپاہ پاسداران انقلاب اسلامی کا کہنا ہے کہ ایران کے پاس غیر استعمال شدہ صلاحیتیں اور اسٹریٹجک اہداف موجود ہیں
ترجمان سپاہ پاسداران انقلاب اسلامی (IRGC) بریگیڈیئر جنرل حسین محبی نے کہا ہے کہ امریکی جہاز آبنائے ہرمز سے 400 کلومیٹر دور چلے گئے ہیں، جبکہ امریکی بیڑا بحرین میں تعینات ہے۔ انہوں نے اس پیش رفت کو ایران کی بڑی کامیابی قرار دیا۔ یہ بیان مہر نیوز ایجنسی نے جاری کیا۔
جنرل محبی نے یہ بھی خبردار کیا کہ اگر امریکہ ایران کے کسی بھی مقام بشمول کوہِ کلنگ پر حملہ کرتا ہے تو ایران پوری طاقت سے جواب دے گا۔ انہوں نے زور دیا کہ ایران کی دفاعی طاقت میدانِ جنگ میں ثابت ہو چکی ہے۔ انہوں نے کہا: "میں کوہِ کلنگ کے بارے میں قیاس آرائیوں پر حتمی رائے نہیں دوں گا، لیکن اگر امریکہ ہمارے ملک کے کسی بھی مقام پر حملہ کرنے کا ارادہ رکھتا ہے، چاہے کوہِ کلنگ ہو یا کوئی اور جگہ، ہم اپنی پوری طاقت سے جواب دیں گے۔"
ترجمان کے مطابق، ایران کے پاس ایسی صلاحیتیں اور اسٹریٹجک اہداف موجود ہیں جو اس نے ابھی تک استعمال نہیں کیے۔ یہ بیان ایران کی بیرونی خطرات کے خلاف اپنے دفاع کے لیے تیاری کو ظاہر کرتا ہے۔ یہ ریمارکس ایران اور امریکہ کے درمیان جاری کشیدگی کے تناظر میں سامنے آئے ہیں، خاص طور پر آبنائے ہرمز کے حوالے سے جو عالمی تیل کی ترسیل کے لیے ایک اہم آبی گزرگاہ ہے۔
آبنائے ہرمز سے امریکی جہازوں کے پیچھے ہٹنے کو جنرل محبی نے ایران کی روک تھام کی طاقت کی علامت قرار دیا۔ انہوں نے نوٹ کیا کہ بحرین میں امریکی بیڑے کی موجودگی ان کے اس دعوے کو کم نہیں کرتی کہ یہ ایران کی کامیابی ہے۔ آبنائے ہرمز کشیدگی کا مرکز رہا ہے، جہاں دونوں فریقوں نے پہلے بھی بحری آزادی اور فوجی موجودگی پر انتباہات کا تبادلہ کیا ہے۔
جنرل محبی کے تبصرے ایران کی دفاعی صلاحیتوں پر مسلسل زور کی عکاسی کرتے ہیں۔ انہوں نے دہرایا کہ ایرانی سرزمین پر کسی بھی جارحیت کا بھرپور جواب دیا جائے گا، اور ملک کے میدانِ جنگ کے تجربے کا حوالہ دیا۔ ترجمان نے مخصوص صلاحیتوں یا اہداف کے بارے میں مزید تفصیلات فراہم نہیں کیں۔
مہر نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، ترجمان کے بیانات ایران کی فوجی تیاری اور علاقائی پوزیشن پر وسیع تر پیغام رسانی کا حصہ ہیں۔ آبنائے ہرمز کی اسٹریٹجک اہمیت اور کشیدگی میں اضافے کے امکان کے پیش نظر بین الاقوامی مبصرین اس صورتحال پر نظر رکھے ہوئے ہیں۔
ماخذ: Mehr News — اصل خبر دیکھیں