
ایران کے وزیر دفاع کا کہنا ہے کہ دفاعی اہداف کے لیے نئی ٹیکنالوجیز استعمال کی جا رہی ہیں
وزیر دفاع مہرداد اخلاقی کتابچی نے کہا کہ انہوں نے اپنے عہدے کے پہلے گھنٹے میں سپاہ پاسداران انقلاب کے ایرو اسپیس فورس اور فوج کی فضائی دفاع کی ضروریات پوری کرنے کے لیے وقت صرف کیا، اور کہا کہ ایران دھمکیوں کو زیادہ تیاری میں بدل دیتا ہے۔
شائع شدہ: 21 اکتوبر، 2026
محفوظ کریںایران کے وزیر دفاع کا کہنا ہے کہ دفاعی اہداف کے لیے نئی ٹیکنالوجیز استعمال کی جا رہی ہیں
ایران کے وزیر دفاع مہرداد اخلاقی کتابچی نے کہا ہے کہ انہوں نے اپنے کام کے پہلے گھنٹے میں سپاہ پاسداران انقلاب کے ایرو اسپیس فورس اور فوج کی فضائی دفاع کی ضروریات پوری کرنے کے لیے وقت صرف کیا۔ یہ بات انہوں نے سوشل میڈیا پر ایک پوسٹ میں کہی، جن کے مطابق مہر نیوز نے رپورٹ کیا۔
وزیر دفاع نے کہا کہ ایران کے لیے بار بار کی جانے والی دھمکیوں کا جواب دینا محض بیان بازی کا مقابلہ نہیں بلکہ دھمکیوں کو زیادہ تیاری اور زیادہ مؤثر دفاعی طاقت میں بدلنا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ایران نئی ٹیکنالوجیز کے ساتھ اپنے اہداف پر توجہ مرکوز کیے ہوئے ہے۔
اخلاقی کتابچی نے اپنی پوسٹ میں ایک فارسی محاورہ بھی استعمال کیا اور کہا، "ہم مٹی کھا لیں گے، لیکن مٹی نہیں دیں گے۔" انہوں نے اسے ایران کے اپنے علاقے کے دفاع پر موقف کے طور پر پیش کیا۔ اس بیان میں کسی مخصوص پروگرام یا وقت کی تفصیل نہیں دی گئی۔
بیان میں یہ واضح نہیں کیا گیا کہ وہ کن دھمکیوں کا حوالہ دے رہے تھے، اور نہ ہی کسی خاص ٹیکنالوجی یا دفاعی نظام کا نام لیا گیا۔ اس میں سپاہ پاسداران انقلاب کی ایرو اسپیس فورس یا فوج کی فضائی دفاع کے لیے بجٹ مختص کرنے یا خریداری کے منصوبوں کی تفصیلات بھی فراہم نہیں کی گئیں۔
اخلاقی کتابچی کے تبصروں میں سپاہ پاسداران انقلاب کی ایرو اسپیس فورس اور فوج کی فضائی دفاع کی ضروریات کو ترجیح دی گئی ہے، جو ایران کے فضائی اور میزائل دفاع سے متعلق ادارے ہیں۔ پوسٹ میں دھمکیوں کے جواب کو عوامی پیغام رسانی کے بجائے تیاری اور دفاعی صلاحیت کا معاملہ قرار دیا گیا۔
مہر نیوز کے مطابق، وزیر دفاع نے کہا کہ ایران کے لیے بار بار کی جانے والی دھمکیوں کا جواب دینا محض بیان بازی کا مقابلہ نہیں بلکہ دھمکیوں کو زیادہ تیاری اور زیادہ مؤثر دفاعی طاقت میں بدلنا ہے، اور ملک نئی ٹیکنالوجیز کے ساتھ اپنے اہداف پر توجہ مرکوز کیے ہوئے ہے۔
ماخذ: Mehr News — اصل خبر دیکھیں