
9/11 کے بعد امریکی جنگوں سے ایران کا اسٹریٹجک فائدہ
پروفیسر تنویر حیدر نقوی کے تجزیے کے مطابق افغانستان اور عراق پر امریکی حملوں نے ایران کے علاقائی مخالفین طالبان اور صدام حسین کو ختم کرکے ایران کو نادانستہ طور پر مضبوط کیا۔
شائع شدہ: 8 ستمبر، 2026
محفوظ کریں9/11 کے بعد امریکی جنگوں سے ایران کا اسٹریٹجک فائدہ
پروفیسر تنویر حیدر نقوی نے اپنے تفصیلی تجزیے میں 9/11 کے بعد افغانستان اور عراق میں امریکی جنگوں کے اسٹریٹجک نتائج کا جائزہ لیا ہے اور دلیل دی ہے کہ ایران ان جنگوں کا سب سے بڑا فائدہ اٹھانے والا بن کر ابھرا۔ مہر نیوز کی اس رپورٹ میں تاریخی ستم ظریفی پر روشنی ڈالی گئی ہے کہ امریکہ، جو ایران کا مخالف ہے، نے ایران کے دو اہم ترین دشمنوں یعنی افغانستان میں طالبان اور عراق میں صدام حسین کی حکومت کو ختم کیا۔
تجزیے کا آغاز قرآن کی آیت (6:129) کے حوالے سے ہوتا ہے جس میں ظالموں کے ایک دوسرے کے دوست بننے کا ذکر ہے، اور اسے الہی حکمت کے طور پر پیش کیا گیا ہے۔ اس میں ایران کے 1979 کے انقلاب کے بعد کے دور، مغرب سے اس کی تنہائی، اور صدام حسین کی طرف سے مسلط کی گئی آٹھ سالہ ایران-عراق جنگ (1980-1988) کا ذکر ہے۔ مزید برآں، ایران اور طالبان کے درمیان دشمنانہ تعلقات پر روشنی ڈالی گئی ہے، خاص طور پر 1998 میں مزار شریف میں ایرانی قونصل خانے پر حملے اور ایرانی سفارت کاروں کے قتل کے واقعے کا ذکر کیا گیا ہے جس کی وجہ سے دونوں ممالک جنگ کے دہانے پر پہنچ گئے تھے۔
9/11 کے حملوں کے بعد، امریکہ نے افغانستان پر حملہ کر کے طالبان کو معزول کیا، اور 2003 میں عراق پر حملہ کر کے صدام حسین کی حکومت کا تختہ الٹ دیا۔ پروفیسر نقوی کا کہنا ہے کہ یہ جنگیں اگرچہ ایران نے شروع نہیں کیں، لیکن انہوں نے ایک اسٹریٹجک خلا پیدا کیا جسے ایران نے بھر دیا۔ انہوں نے کئی امریکی عہدیداروں اور ماہرین کے بیانات کا حوالہ دیا جنہوں نے ایران کے فوائد کو تسلیم کیا۔ برینٹ سکوکرافٹ، سابق قومی سلامتی مشیر، نے کہا کہ ایران مشرق وسطیٰ میں امریکی سرگرمیوں کا فائدہ اٹھانے والا ہے کیونکہ امریکہ نے ایران کے ایک اہم دشمن کو ختم کیا۔ صدر براک اوباما نے 2015 کی ایک تقریر میں ایران کو عراق جنگ کا سب سے بڑا علاقائی فائدہ اٹھانے والا قرار دیا اور کہا کہ صدام حسین کے خاتمے سے ایران کی اسٹریٹجک پوزیشن مضبوط ہوئی۔
دیگر شخصیات میں رچرڈ ہاس نے ایران کو "عراق جنگ کا عظیم اسٹریٹجک فائدہ اٹھانے والا" قرار دیا؛ پیٹر گالبریتھ نے لکھا کہ ایران 2003 کے بعد عراق میں امریکی حوصلہ افزا تبدیلیوں کا بڑا فائدہ اٹھانے والا ہے؛ اور تھامس رکس نے صراحت کے ساتھ کہا کہ "ایران اس جنگ کا بڑا فاتح ہے۔" مضمون میں یہ بھی ذکر کیا گیا ہے کہ جنرل ڈیوڈ پیٹرائیس نے 2008 کی کانگریس بریفنگ میں ایران کا 105 بار ذکر کیا، جو عراق میں ایران کے بڑھتے ہوئے اثر و رسوخ کی عکاسی کرتا ہے۔ سی این این کے مائیکل وئیر نے طالبان اور صدام حسین کے خاتمے کو تہران کے لیے ایک "تحفہ" قرار دیا۔
تجزیہ افغانستان تک بھی پھیلا ہوا ہے، جہاں یو ایس انسٹی ٹیوٹ آف پیس کی ایران پرائمر نے طالبان کے خاتمے کو "واشنگٹن کی طرف سے ایک غیر ارادی اسٹریٹجک تحفہ" قرار دیا۔ پروفیسر نقوی نے زور دیا کہ ایران کی اپنی ریاستی حکمت، اسلامی انقلابی گارڈ کور، اور حزب اللہ اور شام کے ساتھ اتحاد اس کی طاقت کے بنیادی ذرائع تھے، لیکن امریکی جنگوں نے توسیع کے لیے ماحول فراہم کیا۔ مضمون کا اختتام اس نتیجے پر ہوتا ہے کہ ایران، جو کبھی تنہا اور جنگ سے تباہ حال تھا، اب ایک مضبوط طاقت کے طور پر امریکہ اور اسرائیل کا سامنا کر رہا ہے، یہ پوزیشن 1979 میں شاید ہی کسی نے تصور کی ہو۔ یہ سوال اٹھایا گیا ہے کہ 9/11 کے بعد کی جنگوں سے اصل فائدہ کسے ہوا اور تجویز کیا گیا ہے کہ تاریخ کی ستم ظریفی نے ایران کا ساتھ دیا۔
مہر نیوز کے مطابق، پروفیسر تنویر حیدر نقوی کا یہ تجزیہ خطے میں امریکی فوجی مداخلتوں کے غیر ارادی نتائج پر ایک نقطہ نظر پیش کرتا ہے۔
ماخذ: Mehr News — اصل خبر دیکھیں