
ایران کی وزارتِ انٹیلیجنس نے مغربی ایران میں اسلحہ سمگلنگ کے دو ملزمان کو گرفتار کر لیا
مہر نیوز کے مطابق ایران کی وزارتِ انٹیلیجنس نے مغربی ایران میں اسلحہ سمگلنگ کے دو ارکان کو گرفتار کر لیا۔ اس کے علاوہ سیستان و بلوچستان اور ہرمزگان میں تکفیری گروہ سے منسلک تین خلیوں کو تباہ کیا گیا، جس میں دو مشتبہ افراد ہلاک اور دس گرفتار ہوئے۔
شائع شدہ: 13 اکتوبر، 2026
محفوظ کریںایران کی وزارتِ انٹیلیجنس نے مغربی ایران میں اسلحہ سمگلنگ کے دو ملزمان کو گرفتار کر لیا
مہر نیوز کی رپورٹ کے مطابق ایران کی وزارتِ انٹیلیجنس نے مغربی ایران میں اسلحہ سمگلنگ کے دو ارکان کو گرفتار کر لیا ہے۔ وزارت کے شعبہ تعلقاتِ عامہ نے اعلان کیا کہ ان دو افراد کو خطے میں اسلحے کی سمگلنگ کی سرگرمیوں کے سلسلے میں حراست میں لیا گیا۔ ملزمان کی شناخت یا گرفتاری کی مخصوص جگہ کے بارے میں فوری طور پر مزید تفصیلات فراہم نہیں کی گئیں۔
ایک علیحدہ کارروائی میں، جنوب مشرقی ایران کے صوبہ سیستان و بلوچستان کے شعبہ انٹیلیجنس کے تعلقاتِ عامہ کے دفتر نے اعلان کیا کہ تکفیری دہشت گرد گروہ سے منسلک تین آپریشنل خلیوں کو تباہ کر دیا گیا ہے۔ یہ خلیے ایرانشہر، سرباز، سراوان اور زاہدان کی کاؤنٹیوں کے علاوہ جنوبی صوبہ ہرمزگان کے شہر قشم میں شناخت کیے گئے تھے۔ یہ کارروائی صوبہ ہرمزگان کے جنرل ڈیپارٹمنٹ آف انٹیلیجنس کے تعاون سے کی گئی۔
بیان کے مطابق، تینوں دہشت گرد خلیوں کو کسی بھی تخریبی یا دہشت گردانہ کارروائی سے قبل تباہ کر دیا گیا۔ سیکیورٹی اور انٹیلیجنس فورسز کے ساتھ جھڑپوں میں دہشت گرد ٹیموں کے دو ارکان ہلاک ہوئے، جبکہ دیگر دس ارکان کو گرفتار کر لیا گیا۔ رپورٹ میں کارروائیوں کے صحیح وقت یا ملوث افراد کے ناموں کی وضاحت نہیں کی گئی۔
یہ اعلان سرحدی علاقوں میں سرگرم مسلح گروہوں اور سمگلنگ نیٹ ورکس کے خلاف ایرانی انٹیلیجنس ایجنسیوں کی جاری کوششوں کی عکاسی کرتا ہے۔ سیستان و بلوچستان، جو پاکستان اور افغانستان سے متصل ہے، ماضی میں سیکیورٹی فورسز اور عسکریت پسند گروہوں کے درمیان وقفے وقفے سے جھڑپوں کا مشاہدہ کرتا رہا ہے۔ وزارت کے بیان میں تفتیش کے وسیع دائرے یا گرفتار افراد کے دیگر نیٹ ورکس سے ممکنہ روابط کے بارے میں اضافی معلومات فراہم نہیں کی گئیں۔
مہر نیوز نے بتایا کہ یہ کارروائیاں خطے میں سلامتی برقرار رکھنے کے لیے وزارت کی کوششوں کا حصہ تھیں۔ رپورٹ میں ضبط کیے گئے ہتھیاروں یا ملزمان کے خلاف مخصوص الزامات کے بارے میں مزید تفصیلات شامل نہیں تھیں۔ ایرانی حکام نے اس معاملے پر اضافی تبصرہ جاری نہیں کیا۔
ماخذ: Mehr News — اصل خبر دیکھیں