
آئی اے ای اے بورڈ آف گورنرز نے ایران کے خلاف مغربی مسودہ قرارداد منظور کر لی
آئی اے ای اے بورڈ آف گورنرز نے ایران کے خلاف قرارداد 23 موافق، 8 غیر جانبدار اور 3 مخالف ووٹوں سے منظور کی، جس میں ایران کے تعاون اور امریکی و اسرائیلی جارحیت کے اثرات کو نظر انداز کیا گیا۔
شائع شدہ: 9 ستمبر، 2026
محفوظ کریںآئی اے ای اے بورڈ آف گورنرز نے ایران کے خلاف مغربی مسودہ قرارداد منظور کر لی
انٹرنیشنل اٹامک انرجی ایجنسی (آئی اے ای اے) کے بورڈ آف گورنرز نے بدھ کے روز ایران کے خلاف ایک قرارداد منظور کی، جس میں 23 ووٹ حق میں، 8 غیر جانبدار اور 3 مخالف تھے۔ مغربی ممالک کی طرف سے تیار کردہ یہ قرارداد ایران کے آئی اے ای اے کے ساتھ تعاون اور امریکہ اور اسرائیل کی طرف سے محفوظ نیوکلیئر تنصیبات کے خلاف فوجی جارحیت کے نتائج کو نظر انداز کرتی ہے۔
رائٹرز کی رپورٹ کے مطابق، قرارداد میں آئی اے ای اے کے ڈائریکٹر جنرل سے کہا گیا ہے کہ وہ نئی قرارداد، متن میں مذکور پچھلی قراردادیں اور ایران پر اپنی حالیہ رپورٹ ایجنسی کے ارکان، سلامتی کونسل اور اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کو بھیجیں۔
ایران، چین اور روس کے مشترکہ بیان میں کہا گیا ہے کہ مغربی ممالک کی قرارداد کا مسودہ تیار کرنے کی کارروائی کی کوئی قانونی بنیاد نہیں ہے۔ اس سے قبل بھی تینوں ممالک نے مشترکہ بیان میں امریکہ اور تین یورپی ممالک کی اس سیاسی کارروائی کی مخالفت کی تھی جس میں ایران کے نیوکلیئر تنصیبات تک رسائی نہ ہونے کی وجہ سے اس کے معاملے کو سلامتی کونسل میں بھیجنے کی کوشش کی گئی تھی۔
اس قرارداد کی منظوری ایران کے نیوکلیئر پروگرام پر جاری کشیدگی کی عکاسی کرتی ہے۔ ایران نے ہمیشہ اپنے نیوکلیئر پروگرام کو پرامن قرار دیا ہے، جبکہ مغربی ممالک نے ممکنہ ہتھیاروں کی تیاری پر تشویش ظاہر کی ہے۔ اس قرارداد کے منظور ہونے سے ایران اور مغرب کے درمیان سفارتی کشیدگی میں مزید اضافہ متوقع ہے۔
مہر نیوز ایجنسی کے مطابق، یہ قرارداد آئی اے ای اے بورڈ آف گورنرز کے اجلاس میں منظور کی گئی، اور اس کی تفصیلات رائٹرز نے فراہم کیں۔ ایران، چین اور روس کے مشترکہ بیان میں مغربی اقدام کی قانونی بنیاد کی کمی پر زور دیا گیا، جس سے بین الاقوامی فورمز میں مزید سفارتی تصادم کا اشارہ ملتا ہے۔
ماخذ: Mehr News — اصل خبر دیکھیں