
حزب اللہ اپنے ہتھیار رکھے گا، نائب سربراہ قاسم کا کہنا ہے
حزب اللہ کے نائب سیکرٹری جنرل شیخ نعیم قاسم نے کہا ہے کہ گروپ اپنے ہتھیار رکھے گا، ایران امریکہ مذاکرات کے دوران۔
شائع شدہ: 24 مئی، 2026
محفوظ کریںحزب اللہ اپنے ہتھیار رکھے گا، نائب سربراہ قاسم کا کہنا ہے
حزب اللہ کے نائب سیکرٹری جنرل شیخ نعیم قاسم نے تصدیق کی ہے کہ لبنانی مزاحمتی گروپ اپنے ہتھیار برقرار رکھے گا۔ ان کا یہ بیان ایران اور امریکہ کے درمیان جاری مذاکرات کے دوران آیا ہے، جس نے حزب اللہ کے ہتھیاروں کے مستقبل کے بارے میں سوالات اٹھائے ہیں۔
ایک عوامی تقریب میں خطاب کرتے ہوئے قاسم نے زور دیا کہ حزب اللہ کے ہتھیار کسی بحث یا سمجھوتے کے تابع نہیں ہیں۔ انہوں نے گروپ کے اس موقف کا اعادہ کیا کہ اس کی فوجی صلاحیتیں لبنان کو اسرائیلی جارحیت سے بچانے اور علاقائی ڈیٹرنس برقرار رکھنے کے لیے ضروری ہیں۔
یہ تبصرے تہران اور واشنگٹن کے درمیان حالیہ بالواسطہ مذاکرات کی اطلاعات کے بعد سامنے آئے ہیں، جہاں کچھ لوگوں نے قیاس کیا کہ ممکنہ معاہدہ حزب اللہ کے تخفیف اسلحہ پر اثر ڈال سکتا ہے۔ تاہم، قاسم نے ایسے تصورات کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ حزب اللہ کے فیصلے آزاد ہیں اور لبنانی قومی مفادات پر مبنی ہیں۔
حزب اللہ، ایران کا ایک اہم اتحادی، 1980 کی دہائی میں اپنی تشکیل کے بعد سے لبنان میں ایک بڑی سیاسی اور فوجی قوت رہی ہے۔ گروپ نے اسرائیل کے ساتھ متعدد جنگیں لڑی ہیں اور اسے امریکہ اور کئی دیگر ممالک کی طرف سے دہشت گرد تنظیم قرار دیا گیا ہے۔ بین الاقوامی دباؤ کے باوجود، حزب اللہ نے اپنے ہتھیار برقرار رکھے ہیں، یہ دلیل دیتے ہوئے کہ وہ اسرائیلی قبضے کے خلاف مزاحمت کے لیے ضروری ہیں۔
مہر نیوز کے مطابق، قاسم کا بیان حزب اللہ کے دیرینہ موقف کو تقویت دیتا ہے اور اشارہ کرتا ہے کہ گروپ بیرونی سفارتی پیش رفت سے متاثر نہیں ہوگا۔ ایران امریکہ مذاکرات کی مکمل تفصیلات ابھی تک واضح نہیں ہیں، لیکن حزب اللہ کی قیادت اپنی فوجی صلاحیتوں کو برقرار رکھنے کے لیے پرعزم نظر آتی ہے۔
ماخذ: Mehr News — اصل خبر دیکھیں