شیعہ پی کے
غریب آبادی نے 1953 کی بغاوت کو امریکہ-برطانیہ کی مداخلت قرار دیا
ایران

غریب آبادی نے 1953 کی بغاوت کو امریکہ-برطانیہ کی مداخلت قرار دیا

ایران کے نائب وزیر خارجہ کاظم غریب آبادی نے غیر ملکی مداخلت کی مذمت کرتے ہوئے 1953 کی بغاوت کو امریکہ-برطانیہ کی مداخلت قرار دیا اور ایران کی خودمختاری پر زور دیا۔

شائع شدہ: 19 اگست، 2026

محفوظ کریں

غریب آبادی نے 1953 کی بغاوت کو امریکہ-برطانیہ کی مداخلت قرار دیا

ایران کے نائب وزیر خارجہ برائے بین الاقوامی امور کاظم غریب آبادی نے سوشل میڈیا پر ایک پیغام میں 1953 کی بغاوت کو امریکہ اور برطانیہ کی مداخلت کی مثال قرار دیتے ہوئے غیر ملکی مداخلت کی مذمت کی ہے۔ ان کے یہ بیانات ایران اور مغربی طاقتوں کے درمیان جاری کشیدگی کے تناظر میں سامنے آئے ہیں۔

غریب آبادی نے اپنے پیغام میں لکھا، "کسی قوم کی تقدیر میں غیر ملکی مداخلت، چاہے کسی بھی نام سے ہو، استعمار اور عوام کے حق خودارادیت کے خلاف جارحیت ہے۔ نسلیں بدلتی ہیں، لیکن ایک حقیقت نہیں بدلتی: جو ملک اپنی تقدیر غیر ملکیوں کے حوالے کر دیتا ہے، اسے بھاری قیمت چکانی پڑتی ہے۔" انہوں نے مزید کہا، "لیکن آج ایران خود اپنی تقدیر کا فیصلہ کرتا ہے۔ ہماری قوم دباؤ کے سامنے پیچھے نہیں ہٹتی۔"

1953 کی بغاوت، جو ایران میں 28 مرداد کی بغاوت کے نام سے مشہور ہے، میں جمہوری طور پر منتخب وزیر اعظم محمد مصدق کا تختہ الٹ دیا گیا تھا، جس میں سی آئی اے اور برطانوی انٹیلی جنس کا ہاتھ تھا۔ ایرانی حکام اس واقعے کو ایران کے معاملات میں غیر ملکی مداخلت کی علامت کے طور پر پیش کرتے رہے ہیں۔

غریب آبادی کے بیانات اسلامی جمہوریہ کے اس مؤقف کی عکاسی کرتے ہیں کہ ایران اب خود مختار ہے اور بیرونی دباؤ کے باوجود اپنے فیصلے خود کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ یہ بیان ایران کی غیر ملکی تسلط کے خلاف مزاحمت کے بیانیے سے بھی ہم آہنگ ہے۔

مہر نیوز ایجنسی کے مطابق، غریب آبادی کے یہ بیانات سوشل میڈیا پر کیے گئے، اور مزید تفصیلات فراہم نہیں کی گئیں۔ یہ پیغام بین الاقوامی چیلنجوں کے پیش نظر ایران کی خودمختاری کی توثیق کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔

ماخذ: Mehr News — اصل خبر دیکھیں

غریب آبادی نے 1953 کی بغاوت کو امریکہ-برطانیہ کی مداخلت قرار دیا — Shia.pk