
فرانس میں زندگی کی بڑھتی ہوئی لاگت اور تعلیمی معیار کے خلاف ملک گیر مظاہروں میں تقریباً ایک ہزار افراد گرفتار
فرانسیسی وزیر داخلہ لارنٹ نونیز کے مطابق ہفتے کے روز زندگی کی بڑھتی ہوئی لاگت اور تعلیمی معیار کے خلاف ملک گیر مظاہروں کے دوران تقریباً ایک ہزار افراد کو گرفتار کیا گیا۔ وزارت داخلہ نے شرکاء کی تعداد تقریباً چار لاکھ دس ہزار بتائی جبکہ سی جی ٹی یونین نے آٹھ لاکھ بتائی۔
شائع شدہ: 25 اکتوبر، 2026
محفوظ کریںفرانس میں زندگی کی بڑھتی ہوئی لاگت اور تعلیمی معیار کے خلاف ملک گیر مظاہروں میں تقریباً ایک ہزار افراد گرفتار
فرانسیسی وزیر داخلہ لارنٹ نونیز نے کہا ہے کہ ہفتے کے روز زندگی کی بڑھتی ہوئی لاگت اور تعلیمی معیار کے خلاف ملک گیر مظاہروں کے دوران تقریباً ایک ہزار افراد کو گرفتار کیا گیا، اور انہوں نے توقع ظاہر کی کہ یہ تعداد مزید بڑھ سکتی ہے۔ یہ گرفتاریاں ملک بھر کے شہروں میں مظاہروں کی نئی لہر کے دوران ہوئیں۔
وزارت داخلہ کے مطابق ہفتے کے روز فرانس بھر میں تقریباً چار لاکھ دس ہزار افراد نے مظاہروں میں شرکت کی۔ تاہم سی جی ٹی ٹریڈ یونین نے ملک گیر شرکت کی تعداد آٹھ لاکھ بتائی، جو وزارت کے اعداد و شمار سے کافی زیادہ ہے۔ فرانس میں مظاہروں کی رپورٹنگ میں یونینوں اور حکام کے مختلف اعداد و شمار عام بات ہے۔
نونیز نے آپریٹرز پر بھی زور دیا کہ وہ ٹک ٹاک، انسٹاگرام اور ایکس سمیت پلیٹ فارمز تک رسائی معطل کرنے کے لیے تیار رہیں، اگر یلو ویسٹ مظاہروں کے دوران تشدد کی صورتحال پیش آئے۔ اس بیان سے ظاہر ہوتا ہے کہ حکام مزید بے چینی کے امکان کے لیے تیار ہیں اور مظاہروں کے دوران سوشل میڈیا تک رسائی سے متعلق اقدامات پر غور کر رہے ہیں۔
مظاہرے زندگی کی لاگت اور تعلیمی معیار سے متعلق عوامی عدم اطمینان کو ظاہر کرتے ہیں، یہی دو مسائل ہفتے کے روز کے مظاہروں کا مرکز بتائے گئے۔ یلو ویسٹ تحریک کا حوالہ بھی مظاہروں کی اس نئی لہر کے سلسلے میں دیا گیا، جو اس سے قبل فرانس میں وسیع پیمانے پر مظاہرے کر چکی ہے۔
مہر نیوز کے مطابق، جس نے انادولو ایجنسی کا حوالہ دیا، گرفتاریوں اور شرکت کے اعداد و شمار کا اعلان وزیر داخلہ نے ملک بھر میں جاری مظاہروں کے دوران کیا۔ رپورٹ میں مزید بتایا گیا کہ گرفتاریوں کی تعداد میں مزید اضافے کا امکان ہے۔
ماخذ: Mehr News — اصل خبر دیکھیں