
کینیڈا نے مقبوضہ مغربی کنارے میں اسرائیلی آباد کاروں کے تشدد کی مذمت کی
کینیڈا کی وزیر خارجہ انیتا آنند نے مقبوضہ مغربی کنارے میں آباد کاروں کے تشدد کو ناقابل قبول قرار دیا اور طیبہ میں ہونے والے حملے اور یورپی سفارت کاروں سے متعلق حالیہ واقعات کا حوالہ دیا۔
شائع شدہ: 19 اکتوبر، 2026
محفوظ کریںکینیڈا نے مقبوضہ مغربی کنارے میں اسرائیلی آباد کاروں کے تشدد کی مذمت کی
کینیڈا کی وزیر خارجہ انیتا آنند نے اتوار کے روز کہا کہ مقبوضہ مغربی کنارے میں اسرائیلی آباد کاروں کا تشدد ناقابل قبول ہے اور انہوں نے قصبے طیبہ میں حالیہ حملے اور یورپی سفارت کاروں سے متعلق واقعات کا حوالہ دیا۔ یہ اطلاع مہر نیوز نے دی۔
ایک بیان میں آنند نے طیبہ کے حملے کو آباد کاروں کے تشدد کے وسیع تر نمونے کا حصہ قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ طیبہ میں یہ ناقابل قبول حملہ آباد کاروں کے تشدد کے وسیع تر نمونے کا حصہ ہے جو فلسطینی برادریوں کو خطرے میں ڈالتا ہے اور امن کی کوششوں کو کمزور کرتا ہے۔
بیان میں مقبوضہ علاقے میں یورپی سفارت کاروں کے خلاف حالیہ حملوں کا بھی ذکر کیا گیا۔ کینیڈا کی وزیر خارجہ نے ایسے واقعات کو آباد کاروں کے تشدد اور فلسطینی برادریوں پر اس کے اثرات سے جوڑا۔
آنند نے کہا کہ یہ تشدد امن کی کوششوں کو نقصان پہنچاتا ہے۔ بیان میں جن مخصوص واقعات کا حوالہ دیا گیا ان کی مزید تفصیلات یا کینیڈا کی جانب سے ممکنہ ردعمل کے بارے میں کوئی معلومات نہیں دی گئیں۔
مہر نیوز کی رپورٹ میں اس خبر کے موضوعات کے طور پر کینیڈا، فلسطین اور اسرائیلی حکومت کا ذکر کیا گیا۔ رپورٹ میں اسرائیلی یا فلسطینی حکام کے مزید تبصروں کو شامل نہیں کیا گیا۔
مہر نیوز کے مطابق کینیڈا کا یہ بیان مقبوضہ مغربی کنارے میں آباد کاروں کے تشدد پر تازہ ترین بین الاقوامی ردعمل ہے۔
ماخذ: Mehr News — اصل خبر دیکھیں