شیعہ پی کے
ایران کا کہنا ہے کہ امریکی اسرائیلی کارروائیوں کو 'ایران تنازعہ' کہنا اخلاقی بچاؤ ہے
اسرائیل و ایران

ایران کا کہنا ہے کہ امریکی اسرائیلی کارروائیوں کو 'ایران تنازعہ' کہنا اخلاقی بچاؤ ہے

ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے ایکس پر پوسٹ میں کہا کہ جارحیت کا نام نہ لینا غیرجانبداری نہیں بلکہ اخلاقی بچاؤ ہے۔

شائع شدہ: 23 اکتوبر، 2026

محفوظ کریں

ایران کا کہنا ہے کہ امریکی اسرائیلی کارروائیوں کو 'ایران تنازعہ' کہنا اخلاقی بچاؤ ہے

ایران کی وزارت خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے جمعرات کی رات کہا کہ جارحیت کو اس کے نام سے پکارنے سے انکار غیرجانبداری نہیں بلکہ اخلاقی بچاؤ ہے۔ ایکس پر شائع ہونے والی ایک پوسٹ میں بقائی نے اس معاملے کو اس بات کے گرد رکھا کہ متعلقہ کارروائیوں کو کیسے بیان کیا جاتا ہے، اور دلیل دی کہ الفاظ اخلاقی وزن رکھتے ہیں۔

بقائی نے پوسٹ میں کہا کہ اگر ہم میں یہ ہمت بھی نہ ہو کہ جارح کو پہچانیں اور جارحیت کا نام لیں تو ہم کیسے دعویٰ کر سکتے ہیں کہ ہمارے پاس ناانصافی کا مقابلہ کرنے، قابل عمل حل تجویز کرنے یا امن میں بامعنی کردار ادا کرنے کی اخلاقی ہمت ہے۔ یہ بیان ان حالات کو 'ایران تنازعہ' کہنے کے عمل پر تنقید تھا، جسے ترجمان نے مسترد کیا۔

بقائی نے مزید کہا کہ امن جارحین کو خوش کرنے، جارحیت کو جائز قرار دینے، مظلوم کی مذمت کرنے یا بنیادی اصولوں کو قربان کرنے سے قائم نہیں ہو سکتا۔ ان ریمارکس میں ایران کا یہ موقف بیان کیا گیا کہ حالات کو بیان کرنے والی زبان میں جارح کی نشاندہی ہونی چاہیے بجائے اس کے کہ فریقین کو برابر سمجھا جائے۔

پوسٹ میں مخصوص واقعات یا مخصوص ممالک کا ذکر نہیں کیا گیا سوائے اس فریمنگ کے جس پر تنقید کی گئی۔ یہ پوسٹ جمعرات کی رات شائع ہوئی اور اسے مہر نیوز ایجنسی نے نشر کیا، جس نے موضوع کو ایران پر امریکی اسرائیلی جارحیت کے طور پر بیان کیا اور اپنے موضوعاتی کلیدی الفاظ میں قطر کو بھی شامل کیا۔

مہر نیوز کے مطابق ترجمان کے ریمارکس ایکس پر ایک پوسٹ کے طور پر شائع ہوئے اور ان کا مرکز اس بات کے اخلاقی اور سفارتی مضمرات تھے کہ ان حالات کو کیسے نام دیا جاتا ہے۔

ماخذ: Mehr News — اصل خبر دیکھیں

ایران کا کہنا ہے کہ امریکی اسرائیلی کارروائیوں کو 'ایران تنازعہ' کہنا اخلاقی بچاؤ ہے — Shia.pk