
اربعین زائرین نے کربلا میں سب سے بڑا سرخ پرچم لہرایا
اربعین کے موقع پر کربلا میں زائرین نے سب سے بڑا سرخ پرچم بلند کیا، جو شہید رہبر انقلاب اسلامی آیت اللہ سید علی خامنہ ای کے خون کا بدلہ لینے کی علامت ہے۔
شائع شدہ: 3 اگست، 2026
محفوظ کریںاربعین زائرین نے کربلا میں سب سے بڑا سرخ پرچم لہرایا
مہر نیوز ایجنسی کے مطابق، اربعین کی زیارت کے دوران مقدس شہر کربلا میں زائرین نے سب سے بڑا سرخ پرچم بلند کیا، جو شہید رہبر انقلاب اسلامی آیت اللہ سید علی خامنہ ای کے خون کا بدلہ لینے کی علامت ہے۔
یہ واقعہ اس وقت پیش آیا جب لاکھوں شیعہ مسلمان عراق میں اربعین کے موقع پر جمع تھے، جو 680 عیسوی میں کربلا کی جنگ میں امام حسین (ع) کی شہادت کے چالیسویں دن کی یاد میں منایا جاتا ہے۔ سرخ پرچم، جو شیعہ ثقافت میں انتقام اور سوگ کی روایتی علامت ہے، زائرین نے شہید رہبر کی تحریک کے ساتھ یکجہتی کے اظہار کے لیے بلند کیا۔
آیت اللہ خامنہ ای، جو ایران کے سپریم لیڈر کے طور پر خدمات انجام دیتے رہے، ایک واقعے میں شہید ہوئے جس کی تفصیل رپورٹ میں نہیں دی گئی۔ زائرین کے اس اقدام نے اربعین کی یادگار اور معاصر سیاسی و مذہبی واقعات کے درمیان گہرے جذباتی اور مذہبی تعلق کو اجاگر کیا۔
مہر نیوز ایجنسی کی رپورٹ میں بتایا گیا کہ یہ پرچم اپنی نوعیت کا سب سے بڑا تھا، جس نے شرکاء اور مبصرین کی توجہ حاصل کی۔ پرچم بلند کرنا اربعین کی رسومات کا حصہ تھا، جس میں سوگ کے جلوس، یادگار علامتی اعمال، اور امام حسین (ع) کے اصولوں سے عقیدت کا اظہار شامل ہے۔
یہ اقدام خطے میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کے درمیان سامنے آیا ہے، جہاں بہت سی شیعہ برادریاں آیت اللہ خامنہ ای کی شہادت کو ایک بڑا نقصان سمجھتی ہیں۔ سرخ پرچم انصاف کے لیے جاری جدوجہد اور مذہبی رہنماؤں کے خون کا بدلہ لینے کے عزم کی یاد دہانی کا کام کرتا ہے۔
مہر نیوز ایجنسی کے مطابق، زائرین کا اتحاد اور عزم کا مظاہرہ اس سال کربلا میں اربعین کی تقریبات کا مرکزی موضوع تھا۔ اس تقریب میں مختلف ممالک سے زائرین نے شرکت کی، جو شیعہ برادری کے عالمی سوگ اور اس کے سیاسی اثرات کی عکاسی کرتا ہے۔
ماخذ: Mehr News — اصل خبر دیکھیں