
عراقچی نے الجزائر کی نوآبادیاتی تاریخ پر فرانس پر منافقت کا الزام لگایا
ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے فرانسیسی وزیر خارجہ ژاں نوئل بارو پر منافقت کا الزام لگاتے ہوئے الجزائر میں فرانس کے نوآبادیاتی جرائم اور ایرانی اسکولی بچوں کے قتل پر خاموشی کا ذکر کیا۔
شائع شدہ: 19 ستمبر، 2026
محفوظ کریںعراقچی نے الجزائر کی نوآبادیاتی تاریخ پر فرانس پر منافقت کا الزام لگایا
ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے الجزائر میں فرانس کی نوآبادیاتی تاریخ کے حوالے سے فرانس پر منافقت کا الزام لگایا ہے، جو فرانسیسی وزیر خارجہ ژاں نوئل بارو کے حالیہ پیغام کے جواب میں تھا۔ اپنے ایکس اکاؤنٹ پر ایک پوسٹ میں، عراقچی نے لکھا، "الجزائر کی آزادی کی جنگ کے دوران فرانس کے ہاتھوں ڈیڑھ ملین الجزائریوں کا قتل عام کیا گیا۔" انہوں نے مزید زور دیا، "الجزائر کی آزادی کی جنگ میں فرانس نے 1.5 ملین الجزائریوں کو قتل کیا۔ ان میں سے ایک دہائی سے بھی کم پیرس نے ریکارڈ کیے ہیں، جو اپنے نوآبادیاتی جرائم کے لیے کوئی معافی دینے سے انکار کرتا ہے۔" عراقچی نے بارو سے براہ راست مخاطب ہو کر کہا، "اپنے مگرمچھ کے آنسو بند کرو @inbarrot۔ جب امریکہ نے ہمارے اسکولی بچوں کا قتل عام کیا تو تمہاری خاموشی سب کچھ بتا رہی تھی۔" یہ بیان ایران اور فرانس کے درمیان جاری کشیدگی کو اجاگر کرتا ہے، جہاں عراقچی فرانس کے انسانی حقوق اور تاریخی جوابدہی پر دوہرے معیار کو نمایاں کر رہے ہیں۔ امریکی اقدامات کا حوالہ ممکنہ طور پر ماضی کے ان واقعات سے متعلق ہے جہاں ایرانی اسکولی بچے مارے گئے تھے، تاہم مضمون میں اس کی مخصوص تفصیلات فراہم نہیں کی گئیں۔ یہ تبادلہ تہران اور پیرس کے درمیان سفارتی رکاوٹوں کا ایک اور واقعہ ہے، کیونکہ ایران مغربی ممالک کی نوآبادیاتی وراثت اور مبینہ طور پر منتخب غصے پر تنقید جاری رکھے ہوئے ہے۔ مہر نیوز کے مطابق، رپورٹ میں فرانسیسی حکام کی طرف سے کوئی ردعمل یا بارو کے اس پیغام کے بارے میں اضافی سیاق و سباق شامل نہیں تھا جس نے عراقچی کے ریمارکس کو جنم دیا۔
ماخذ: Mehr News — اصل خبر دیکھیں