
روساتوم کا کہنا ہے کہ ایران کے بوشہر پلانٹ میں 508 مزید روسی جوہری ماہرین بھیجے جائیں گے
روسی ریاستی جوہری توانائی کارپوریشن روساتوم کے سربراہ الیکسی لِخاچیف نے بدھ کے روز کہا کہ بوشہر جوہری بجلی گھر سے روسی عملے کو نکالا نہیں جائے گا اور اس کی تعداد بڑھا کر 700 افراد تک لے جائیں گے۔
شائع شدہ: 28 اکتوبر، 2026
محفوظ کریںروساتوم کا کہنا ہے کہ ایران کے بوشہر پلانٹ میں 508 مزید روسی جوہری ماہرین بھیجے جائیں گے
روسی ریاستی جوہری توانائی کارپوریشن روساتوم کے سربراہ الیکسی لِخاچیف نے بدھ کے روز کہا کہ بوشہر جوہری بجلی گھر سے روسی عملے کو نکالا نہیں جائے گا اور کارپوریشن اس مقام پر عملے کی تعداد بڑھانے کا ارادہ رکھتی ہے۔ یہ بات خبر رساں ایجنسی مہر (ایم این اے) کی رپورٹ میں بتائی گئی۔
لِخاچیف نے کہا کہ روساتوم بوشہر پلانٹ میں اہلکاروں کی تعداد 700 افراد تک لے جانا چاہتا ہے۔ بیان کردہ انتظامات کے مطابق اس سہولت پر تعمیراتی اور خدماتی شعبوں میں کام کرنے والے 192 روسی ماہرین میں 500 سے زائد افراد شامل کیے جائیں گے، جو رپورٹ میں بتائے گئے 508 اضافی ماہرین کے عدد کے مطابق ہے۔
یہ بیان ایرانی صدر مسعود پزشکیان کے ماسکو دورے کے بعد سامنے آیا، جہاں وہ منگل کی رات گیس برآمد کرنے والے ممالک کے فورم کے اجلاس میں شرکت کے لیے پہنچے اور روسی صدر ولادیمیر پوتن سے بھی ملاقات کی۔ سی آئی ایس اجلاس کے موقع پر پوتن سے اس سے قبل ہونے والی ملاقات کے بعد روساتوم کے سربراہ نے کہا تھا کہ کارپوریشن ایران میں بڑے اور چھوٹے جوہری بجلی گھروں کی تعمیر کے لیے کئی نئے مقامات پر غور کر رہی ہے۔
رپورٹ کے مطابق اب کئی نئے پاور یونٹس کے مقام سے متعلق ایک معاہدہ طے پا گیا ہے۔ بوشہر میں عملے کی تعداد میں اضافے کو ایران اور روس کے درمیان وسیع تر جوہری تعاون کا حصہ قرار دیا گیا ہے۔
خبر رساں ایجنسی مہر کی رپورٹ میں مزید بتایا گیا کہ لِخاچیف نے یہ remarks بدھ کے روز دیے اور منصوبہ بند اضافہ بوشہر پلانٹ میں تعمیراتی اور خدماتی دونوں شعبوں میں کام کرنے والے روسی اہلکاروں پر محیط ہے۔
ماخذ: Mehr News — اصل خبر دیکھیں