
ڈبلیو ایف پی کا کہنا ہے کہ غزہ میں 14 لاکھ فلسطینی شدید غذائی عدم تحفظ کا شکار ہیں
ورلڈ فوڈ پروگرام نے کہا ہے کہ فنڈز کی کمی کے باعث امداد میں ایک تہائی کمی کی گئی ہے، جس سے غزہ میں پانچ لاکھ فلسطینی متاثر ہوں گے، جہاں 14 لاکھ افراد شدید غذائی عدم تحفظ کا شکار ہیں۔
شائع شدہ: 19 اکتوبر، 2026
محفوظ کریںڈبلیو ایف پی کا کہنا ہے کہ غزہ میں 14 لاکھ فلسطینی شدید غذائی عدم تحفظ کا شکار ہیں
اقوام متحدہ کے ورلڈ فوڈ پروگرام (ڈبلیو ایف پی) نے کہا ہے کہ غزہ کی پٹی میں 14 لاکھ فلسطینی اب بھی شدید غذائی عدم تحفظ کا شکار ہیں، جبکہ فنڈز کی کمی کے باعث ادارہ اس علاقے میں اپنی امداد کم کرنے پر مجبور ہو گیا ہے۔ ادارے کے مطابق خوراک کے راشن میں نصف کمی کر دی گئی ہے اور مجموعی امدادی پروگرام میں ایک تہائی کمی کی گئی ہے، جس کا مطلب ہے کہ غزہ میں پانچ لاکھ فلسطینی امداد سے محروم ہو جائیں گے۔
ڈبلیو ایف پی کے کنٹری ڈائریکٹر شان ہیوز نے اے ایف پی نیوز ایجنسی کو بتایا کہ غزہ میں حالات خطرناک اور غیر مستحکم ہیں۔ انہوں نے کہا کہ "لوگ محفوظ نہیں ہیں۔ فضائی حملے روزانہ کی بنیاد پر جاری ہیں۔ لوگ مسلسل بے گھر ہو رہے ہیں۔" انہوں نے مزید کہا کہ "تقریباً ہر شخص مستقل گھر سے محروم ہے۔ اور انسانی حالات انتہائی خراب ہیں۔"
خوراک کی امداد میں کمی ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب اسرائیلی حکومت نے غزہ کی پٹی میں تجارتی ترسیل روک دی ہے۔ ڈبلیو ایف پی نے کمی کی وجہ فنڈز کی کمی کو قرار دیا ہے، جبکہ تجارتی راستوں کی بندش نے علاقے میں اشیاء کی آمد کو مزید محدود کر دیا ہے۔
یہ اعداد و شمار غزہ میں جاری انسانی بحران کی طرف اشارہ کرتے ہیں، جہاں بے گھر ہونے اور مسلسل حملوں کے باعث زیادہ تر رہائشی مستحکم رہائش سے محروم ہیں۔ ڈبلیو ایف پی کی یہ وارننگ امدادی اداروں کے اس سے قبل کے جائزوں کے بعد سامنے آئی ہے جن میں کہا گیا تھا کہ علاقے میں غذائی عدم تحفظ ہنگامی سطح پر برقرار ہے۔
مہر نیوز کے مطابق ڈبلیو ایف پی کے کنٹری ڈائریکٹر نے انسانی حالات کو انتہائی خراب قرار دیا اور کہا کہ فضائی حملے اور بے گھر ہونا روزانہ کی بنیاد پر جاری ہیں۔ رپورٹ میں مزید کہا گیا کہ امداد میں کمی ایسے وقت میں ہوئی ہے جب اسرائیل نے غزہ میں تجارتی ترسیل روک دی ہے۔
ماخذ: Mehr News — اصل خبر دیکھیں